Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
808 - 881
نہیں  آیا۔جن صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو رونا نہیں  آیا تو انہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم نے بہت کوشش کی لیکن رونے پر قادر نہیں  ہو سکے۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  دوبارہ تمہارے سامنے وہ سورت پڑھتا ہوں  تو جورو پڑاا س کے لئے جنت ہے اور جسے رونا نہ آئے تو وہ رونے جیسی صورت بنا لے۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان... الخ، فصل فی البکاء عند قراء ۃ القرآن، ۲/۳۶۳، الحدیث: ۲۰۵۴)
سورۂ تکاثُر کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  فقط دنیا کی بہتری کے لئے عمل کرنے کی مذمت بیان کی گئی اور آخرت کے لئے تیاری نہ کرنے پر تنبیہ کی گئی ہے اور اس سورت میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :
(1) …اس سورت کی ابتدا میں  بتایاگیا کہ زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے لوگوں  کو آخرت کی تیاری سے غافل کر دیا ہے اور یہ حرص ان کی دلوں  میں  رہی یہاں  تک کہ انہیں  موت آ گئی۔
(2) … یہ بیان کیا گیاکہ نزع کے وقت زیادہ مال جمع کرنے کی حرص رکھنے والوں  کو اس کا انجام معلوم ہو جائے گا اور اگر وہ اس کا انجام یقینی علم کے ساتھ جانتے تو مال سے کبھی محبت نہ رکھتے۔
(3) …اس سورت کے آخر میں  یہ بتایا گیا کہ مرنے کے بعد مال کی حرص رکھنے والے ضرور جہنم کودیکھیں  اور قیامت کے دن لوگوں  سے نعمتوں  کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
سورۂ قارِعہ کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ تکاثُر کی اپنے سے ما قبل سورت’’قارِعہ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قارِعہ میں  قیامت کی بعض ہَولْناکیاں  بیان کی گئیں  اور اس سورت میں  جہنم کا مستحق ہونے کی وجہ بیان کی گئی کہ لوگ دنیا میں  مشغول ہو کر دین سے دورہوجائیں  گے اور گناہ کرنے لگیں  گے جس کی وجہ سے انہیں  جہنم میں  ڈالا جائے گا۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ