Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
807 - 881
سورۂ تَکَاثر
سورۂ تکاثُرکا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورۂ تکاثُر مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے ۔ (خازن، تفسیر سورۃ التّکاثر، ۴/۴۰۳)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	اس سورت میں  1رکوع، 8آیتیں  ہیں ۔
’’تکاثُر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	تکاثُر کا معنی ہے مال ،اولاد اور خادموں  کی کثرت پر فخر کرنا۔اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ تکاثر‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ تکاثر کے فضائل:
(1) …حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کیا تم میں  سے کوئی اس کی طاقت نہیں  رکھتا کہ وہ روزانہ ایک ہزار آیتوں  کی تلاوت کرے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی :اس کی طاقت کون رکھتا ہے؟ارشاد فرمایا’’کیا تم میں  کوئی(روزانہ) ’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ‘‘ پڑھنے کی طاقت نہیں  رکھتا؟(یعنی یہ سورت پڑھنا ثواب میں ایک ہزار آیتیں  پڑھنے کے برابر ہے)۔( مستدرک، کتاب فضائل القرآن، ذکر فضائل سور... الخ، الہاکم التّکاثر تعدل الف آیۃ، ۲/۲۷۶، الحدیث: ۲۱۲۷)
(2) …حضرت جریر بن عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ میں  تمہارے سامنے سورت ’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ‘‘ پڑھنے لگا ہوں  تو(اسے سن کر) جو رو پڑا تو اس کے لئے جنت ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے وہ سورت پڑھی تو بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ رو پڑے اور بعض کو رونا