Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
799 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک انسان ضرور اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اور بیشک وہ اس بات پر ضرور خود گواہ ہے۔
{اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ: بیشک انسان ضرور اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔} اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں  کے گھوڑوں  کی قَسمیں  ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں  کو یاد رکھے اور نعمتوں  کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۴۰۲) 
{وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِیْدٌ: اور بیشک وہ اس بات پر ضرور خود گواہ ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ بیشک وہ انسان ناشکرا ہونے پر خود اپنے عمل سے گواہ ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ انسان کے ناشکرے ہو نے پر خود گواہ ہے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۴۰۲)
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌؕ(۸) اَفَلَا یَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِی الْقُبُوْرِۙ(۹) وَ حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِۙ(۱۰) اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ یَوْمَىٕذٍ لَّخَبِیْرٌ۠(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک وہ مال کی چاہت میں  ضرور کرّا ہے ۔تو کیا نہیں  جانتا جب اُٹھائے جائیں  گے جو قبروں  میں  ہیں  ۔اور کھول دی جائے گی جو سینوں  میں  ہے ۔ بے شک ان کے رب کو اس دن ان کی سب خبر ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک وہ مال کی محبت میں  ضرور بہت شدید ہے ۔تو کیا وہ نہیں  جانتا جب وہ اٹھائے جائیں  گے جو قبروں  میں  ہیں ؟اور جو سینوں  میں  ہے وہ کھول دی جائے گی۔بیشک ان کا رب اس دن ان کی یقینا خوب خبررکھنے والا ہے۔ 
{وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ: اور بیشک وہ مال کی محبت میں  ضرور بہت شدید ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ بیشک انسان مال کی محبت اورا س کی طلب میں  توبہت مضبوط اور طاقتور ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کی