Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
779 - 881
سورۂ بَیِّنَہ
سورۂ بَیِّنَہ کا تعارف
مقامِ نزول:
	جمہور مفسرین کے نزدیک یہ سورت مدنیہ ہے اور حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی ایک روایت یہ ہے کہ یہ سورت مکیہ ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ البیّنۃ، ۴/۳۹۸) 
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 8آیتیں  ہیں ۔
’’ بَیِّنَہ ‘‘ نام رکھنے کی وجہ :
	بینہ کا معنی ہے روشن اور بہت واضح دلیل،اس سورت کی پہلی آیت کے آخر میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ بَیِّنَہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ بَیِّنَہ سے متعلق حدیث :
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں  تمہارے سامنے سورت ’’لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا‘‘ پڑھوں ۔حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اللّٰہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟حضورِ اَقدس صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہاں ۔(یہ سن کر) حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھوں  میں  آنسو جاری ہو گئے۔( بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب ابی بن کعب رضی اللّٰہ عنہ، ۲/۵۶۲، الحدیث: ۳۸۰۹) 
سورۂ بَیِّنَہ کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  یہودیوں  ،عیسائیوں  اور مشرکوں  کا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ