Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
765 - 881
عَلَیْكَ عَظِیْمًا‘‘(النساء :۱۱۳)
  جانتے تھے اور آپ پر اللّٰہ کافضل بہت بڑا ہے۔
( تفسیر بغوی، العلق، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۴۷۵، ملخصاً)
كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤىۙ(۶) اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ(۷) اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں  ہاں  بیشک آدمی سرکشی کرتا ہے ۔اس پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا ۔بیشک تمہارے رب ہی کی طرف پھرنا ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں  ہاں ، بیشک آدمی ضرور سرکشی کرتا ہے۔اس بنا پر کہ اپنے آپ کو غنی سمجھ لیا۔بیشک تیرے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے۔
{كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰۤى: ہاں  ہاں ، بیشک آدمی ضرور سرکشی کرتا ہے۔} ابوجہل کو کچھ مال ہاتھ آگیا تو اس نے لباس، سواری اور کھانے پینے میں  تَکَلُّفات شروع کر دئیے اور اس کا غرور و تکبر بہت بڑھ گیا ۔اس کے بارے میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  فرمایا کہ ہاں  ہاں ، بیشک آدمی اس بنا پرسرکشی کرتا ہے کہ مال و دولت کی وجہ سے ا س نے اپنے آپ کو اللّٰہ تعالیٰ سے بے پرواہ سمجھ لیا ،اے انسان ! تجھے یہ بات پیشِ نظر رکھنی چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ تجھے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے تو تیری سرکشی ونافرمانی اور غرور و تکبر کا انجام عذاب ہوگا۔( صاوی ، العلق ، تحت الآیۃ : ۶-۸، ۶/۲۳۹۴، خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۶-۸، ۴/۳۹۳-۳۹۴، مدارک، العلق، تحت الآیۃ: ۶-۸، ص۱۳۶۲-۱۳۶۳، ملتقطاً)
سورہِ علق کی آیت نمبر6تا 8سے حاصل ہونے والی معلوماتـ:
	ان آیات سے 3باتیں  معلوم ہوئیں 
(1)…مخلوق میں  سے کوئی لمحہ بھر کے لئے بھی اللّٰہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں  اور پوری مخلوق اپنی ہر حرکت اور سکون میں