ایسے سہانے وقت ، ٹھنڈے زمانہ میں ، وہ معصوم ، بے گناہ، پاک داماں ، عصمت پناہ اپنی راحت وآسائش کو چھوڑ، خواب وآرام سے منہ موڑ ، جبینِ نیازآستانۂ عزت پر رکھے ہے کہ الٰہی!میری امت سیاہ کارہے ، درگزرفرما، اوران کے تمام جسموں کو آتشِ دوزخ سے بچا۔
جب وہ جانِ راحت کانِ رأفتپیداہوا،بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کیا اور رَبِّ ھَبْ لِیْ اُمَّتِیْ فرمایا، جب قبر شریف میں اتارا لبِ جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا، آہستہ آہستہ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ فرماتے تھے ۔ قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤں ، زبانیں پیاس سے ، باہر ، آفتاب سروں پر ، سائے کا پتہ نہیں ، حساب کا دغدغہ ، ملکِ قہار کا سامنا ،عالَم اپنی فکر میں گرفتارہوگا ، مجرمانِ بے یار دامِ آفت کے گرفتار، جدھر جائیں گے سوا نَفْسِیْ نَفْسِیْ اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ کچھ جواب نہ پائیں گے۔اس وقت یہی محبوبِ غمگسار کام آئے گا ، قفلِ شفاعت اس کے زورِ بازو سے کھل جائے گا ، عمامہ سرِاَقدس سے اتاریں گے اورسربسجود ہو کر ’’یَا رَبِّ اُمَّتِیْ‘‘ فرمائیں گے ۔(تو ایسے محبوب، غم خوار اور غمگسار آقا کی سچی فضیلتوں کو مٹانا اور دن رات ان کے اوصاف کی نفی کی فکر میں رہنااور ان کی اطاعت سے منہ موڑنا اور ان کی نافرمانی پر کمر بستہ ہونا کتنی بڑی ناانصافی ہے)۔( فتاوی رضویہ، ۳۰/۷۱۶-۷۱۷)
وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیا۔
{وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کردیا۔} مفسرین نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر بلندہونے کی مختلف تَوجیہات بیان کی ہیں ۔
(1)…حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانا اور ان کی اطاعت کرنا مخلوق پر لازم کر دیا ہے حتّٰی کہ کسی کا اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لانا،اس کی