Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
742 - 881
فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ‘‘(المائدہ:۱۱۸)
بندے ہیں اور اگر تو انہیں  بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا،حکمت والا ہے۔
	تو حضور پُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپنے دستِ اَقدس اٹھا کر دعا کی ’’اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ، میری امت ،میری امت۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا’’ اے جبریل !،میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں جاؤ، تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں  کیا چیز رُلارہی ہے ۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں  رسول اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنی عرض معروض کی خبر دی۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا :تم میرے حبیب  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ’’اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِی اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْ ءُکَ‘‘ آپ کی امت کی بخشش کے معاملے میں  ہم آپ کو راضی کر دیں  گے اور آپ کو غمگین نہ کریں  گے ۔( مسلم، کتاب الایمان، باب دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لامّتہ... الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲))
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ جانِ برادر!تو نے کبھی سنا ہے کہ جس کو تجھ سے اُلفت ِصادقہ ہے وہ تیری اچھی بات سن کر چیں  بہ جبیں (یعنی ناراض ) ہو اوراس کی مَحو(یعنی ختم کرنے) کی فکر میں  رہے اورپھر محبوب بھی کیسا،جانِ ایمان وکانِ احسان،جس کے جمالِ جہاں  آراء کا نظیر کہیں  نہ ملے گا اور خامۂ قدرت (یعنی تقدیر کے قلم )نے اس کی تصویر بناکر ہاتھ کھینچ لیا کہ پھر کبھی ایسا نہ لکھے گا، کیسا محبوب، جسے اس کے مالک نے تمام جہان کے لئے رحمت بھیجا، کیسا محبوب، جس نے اپنے تن پر ایک عالَم کا بار اٹھالیا ، کیسا محبوب ، جس نے تمہارے غم میں  دن کاکھانا ، رات کا سونا ترک کردیا، تم رات دن اس کی نافرمانیوں  میں  مُنہَمِک اورلَہْو ولَعب میں  مشغول ہو اوروہ تمہاری بخشش کے لئے شب وروز گِریاں  ومَلول ۔
	شب، کہ اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہٗ نے آسائش کے لئے بنائی، اپنے تسکین بخش پر دے چھوڑے ہوئے مَوقوف ہے ، صبح قریب ہے ، ٹھنڈی نسیموں  کا پنکھا ہو رہا ہے ، ہر ایک کاجی اس وقت آرام کی طرف جھکتاہے ، بادشاہ اپنے گرم بستروں  ، نرم تکیوں  میں  مست خواب ناز ہے اورجو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں  دوگز کی کملی(چادر) میں  دراز،