آسمان پر چڑھ رہا ہے۔
اورحضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: اس کھولنے سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا:’’ اس سے مراد وہ نور ہے جو مومن کے دل میں ڈالا جاتا ہے جس سے اس کا دل کھل جاتا ہے۔عرض کی گئی: کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکے؟ارشاد فرمایا:’’ہاں ،(ا س کی تین علامتیں ہیں ) (1)آخرت کی طرف رغبت(2) دنیا سے نفرت ، اور(3) موت سے پہلے آخرت کی تیاری۔( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، ما ذکر عن نبیّنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی الزہد ، ۸/۱۲۶، الحدیث: ۱۴)
(2)… حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کے ایسے حبیب ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بن مانگے ان کا مقدس سینہ ہدایت اور معرفت کے لئے کھول کر انہیں یہ نعمت عطا کر دی۔
وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَۙ(۲) الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَۙ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور تم پر سے تمہارا وہ بوجھ اتار لیا۔جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہارے اوپر سے تمہارا بوجھ اتاردیا۔جس نے تمہاری پیٹھ توڑی تھی۔
{وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ: اور ہم نے تمہارے اوپر سے تمہارا بوجھ اتاردیا۔ } اس بوجھ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہ غم مراد ہے جوحضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو کفار کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے رہتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس بوجھ سے اُمت کے گناہوں کا غم مراد ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا قلب مبارک مشغول رہتا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، ہم نے آپ کو شفاعت قبول کئے جانے والا بناکر غم کاوہ بوجھ دور کردیا جس نے آپ کی پیٹھ توڑدی تھی۔( تفسیر کبیر ، الم نشرح ، تحت الآیۃ ، ۲-۳ ، ۱۱/۲۰۷-۲۰۸ ، خازن، الم نشرح، تحت الآیۃ، ۲-۳، ۴/۳۸۸-۳۸۹، خزائن العرفان، الم نشرح، تحت الآیۃ: ۳، ص ۱۱۱۰، ملتقطاً)