Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
739 - 881
اصالتِ کُل، امامتِ کل، سیادتِ کل، امارتِ کل		حکومتِ کل ،ولایتِ کل ،خدا کے یہاں  تمہارے لئے
فرشتے خِدَم رسول حِشم تمامِ امم غُلامِ کرم		وجود و عدم حدوث و قِدم جہاں  میں  عیاں  تمہارے لئے
یہ طور کجا سپہر تو کیا کہ عرشِ عُلا بھی دور رہا		جہت سے ورا وصال ملا یہ رفعتِ شاں  تمہارے لئے
	مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں  لکھتے ہیں ’’ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم نے آپ کی خاطر آپ کے سینۂ اقدس کو ہدایت ، معرفت،نصیحت، نبوت اور علم وحکمت کے لئے کشادہ اور وسیع کر دیا یہاں  تک کہ عالَمِ غیب اور عالَمِ شہادت اس کی وسعت میں  سما گئے اور جسمانی تعلقات روحانی اَنوار کے لئے مانع نہ ہوسکے اور علومِ لدُنّیہ ، حکمِ الٰہیہ ، معارفِ ربّانیہ اور حقائقِ رحمانیہ آپ کے سینۂ پاک میں جلوہ نُما ہوئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  ظاہری طور پر سینۂ مبارک کا کھلنا مراد ہے ۔اَحادیث میں  مذکور ہے کہ ظاہری طور پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے سینۂ مبارک کا کھلنا بھی بار ہا ہوا ،جیسے عمر مبارک کی ابتداء میں  سینۂ اَقدس کھلا ، نزولِ وحی کی ابتداء کے وقت اور شبِ معراج سینہ مبارک کھلا اور اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سینۂ پاک کو چاک کرکے قلب مبارک نکالا اور زریں  طَشت میں  آبِ زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ (خزائن العرفان، الم نشرح ، تحت الآیۃ:۱، ص ۱۱۱۰،  خازن ، الم نشرح ، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۸۸، روح البیان، الم نشرح ، تحت الآیۃ:۱، ۱۰/۴۶۱-۴۶۲، ملتقطاً)
آیت ’’ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :
 (1)…دنیا کی حقارت اور آخرت کے کمال کے علم سے سینے کا کھل جانا اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ‘‘(انعام:۱۲۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جسے اللّٰہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ ،بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی