Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
726 - 881
	تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے دونوں  دستِ مبارک اُٹھا کر اُمت کے حق میں  رو کر دُعا فرمائی اور عرض کیا ’’اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ‘‘ اے اللّٰہ میری امت میری امت۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ تم میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے پاس جاؤ۔تمہارا رب خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھوکہ ان کے رونے کا سبب کیا ہے؟حضرت جبریل نے حکم کے مطابق حاضر ہو کر دریافت کیا توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ  سَلَّمَ نے انہیں  تمام حال بتایا اور غمِ اُمت کا اظہار کیا ۔حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں  عرض کی کہ اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تیرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ یہ فرماتے ہیں  اور اللّٰہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ جاؤ اور میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی اُمت کے بارے میں  عنقریب راضی کریں  گے اور آپ کے قلب مبار ک کو رنجیدہ نہ ہونے دیں  گے۔( مسلم، کتاب الایمان، باب دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لامتہ... الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲))
	 ابو البرکات عبداللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ جب یہ آیت نازل ہوئی توحضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جب تک میرا ایک اُمتی بھی دوزخ میں  رہے گامیں  راضی نہ ہوں  گا۔( مدارک، الضّحی، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۵۶)
	مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ آیت ِکریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ وہی کرے گا جس میں  رسول راضی ہوں  اور اَحادیثِ شفاعت سے ثابت ہے کہ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی رضا اسی میں  ہے کہ سب گنہگارانِ اُمت بخش دیئے جائیں  تو آیت و اَحادیث سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ) کی شفاعت مقبول اور حسب ِمرضی ٔمبارک گنہگارانِ اُمت بخشے جائیں  گے۔ سُبْحَانَ اللّٰہ!کیا رتبۂ عُلیا ہے کہ جس پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کے لئے تمام مُقَرّبین تکلیفیں  برداشت کرتے اور محنتیں  اُٹھاتے ہیں  وہ اس حبیب ِاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَسَلَّمَ کو راضی کرنے کے لئے عطا عام کرتا ہے۔( خزائن العرفان، الضّحی، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۱۰۹)
	اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
خدا کی رضا چاہتے ہیں  دو عالَم			خدا چاہتا ہے رضائے محمد