Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
725 - 881
	اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ وعدۂ کریمہ اُن نعمتوں  کو بھی شامل ہے جو آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا میں  عطا فرمائیں  جیسے کمالِ نفس، اَوّلین و آخرین کے علوم ، ظہورِ اَمر ، دین کی سربلندی اور وہ فتوحات جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے عہد مبارک میں  ہوئیں  اور جو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے زمانے میں  ہوئیں  اور تاقیامت مسلمانوں  کو ہوتی رہیں  گی، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی دعوت کا عام ہونا ، اسلام کا مشرق و مغرب میں  پھیل جانا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی اُمت کا تمام امتوں  سے بہترین ہونا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے وہ کرامات و کمالات جن کا علم اللّٰہ تعالیٰ ہی کو ہے، اور یہ وعدہ آخرت کی عزت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو شفاعت ِعامہ و خاصہ اور مقامِ محمود وغیرہ جلیل نعمتیں  عطا فرمائیں ۔ (روح البیان، الضّحی، تحت الآیۃ: ۵، ۱۰/۴۵۵، خازن، الضّحی، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۳۸۶، ملتقطاً)
خدا چاہتا ہے رضائے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ:
	حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے قرآنِ مجید میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا پڑھی: ’’رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘(ابراہیم:۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک بتوں  نے بہت سے لوگوں  کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
	اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا پڑھی: ’’اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ‘‘(مائدہ:۱۱۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اگر تو انہیں  عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں  بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا،حکمت والا ہے۔