Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
72 - 881
اورسردیوں  میں  کپڑا نہ ہونے کے باعث گڑھوں  اور غاروں  میں  گزارا کرتے تھے۔( خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۲۴۸)
	ان صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی فضیلت کے بارے میں  حضرت عبد اللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ فقراء مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں  جائیں  گے۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۹۱، الحدیث: ۳۷(۲۹۷۹))
	 دوسری حدیث میں  حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے تنگدست مہاجرین کے گروہ!تمہیں  بشارت ہو،قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں  سے نصف دن پہلے جنت میں  داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔( ابو داؤد، کتاب العلم، باب فی القصص، ۳/۴۵۲، الحدیث: ۳۶۶۶)
	نوٹ: یاد رہے کہ فقراء مہاجرین بعض مالداروں  سے40برس پہلے جنت میں  جائیں  گے اور بعض سے 500 برس پہلے جنت میں  جائیں  گے، لہٰذا پہلے والی حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں  جیسا کہ مفتی احمد یار خاں  نعیمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  پہلی حدیث کی شرح میں  فرماتے ہیں  :خیال رہے کہ یہ فقراء بعض امیروں  سے چالیس سال پہلے اور بعض امیروں  سے پانچ سو سال پہلے جنت میں  جائیں  گے لہٰذا یہ حدیث پانچ سو برس والی حدیث کے خلاف نہیں ۔( مراٰۃ المناجیح، باب فضل الفقراء وماکان من عیش النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، الفصل الاول، ۷/۶۶، تحت الحدیث: ۵۰۰۲)
آیت ’’لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے چار مسئلے معلوم ہوئے،
(1)… اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے ان مہاجر مسلمانوں  کو فقراء فرمایاجو اپنے اَموال وغیرہ مکہ معظمہ میں  چھوڑ کر آئے تھے ، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کفار مسلمانوں  کے مال پر قبضہ کر لیں  تو وہ اس کے مالک ہو جائیں  گے۔
(2)…مہاجر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد کے لئے آئے تھے اور اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری مدد کے لئے آئے،اس سے معلوم ہوا کہ حضور پُرنور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مددکرنا اللّٰہ تعالیٰ کی مددکرناہے یعنی حقیقت میں  اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنا ہے ۔