سورۂ لَیل
سورۂ لیل کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ لَیل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع، 21آیتیں ہیں ۔
’’لَیل ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
رات کو عربی میں لَیل کہتے ہیں ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے رات کی قسم ارشاد فرمائی ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ لَیل‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ لیل سے متعلق حدیث:
حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ظہر کی نماز میں ’’وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰى‘‘ پڑھا کرتے تھے۔( سنن نسائی، کتاب الافتتاح، القراء ۃ فی الرکعتین الاولیین من صلاۃ العصر، ص۱۷۰، الحدیث: ۹۷۷)
سورۂ لَیل کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں انسان کے عمل اور آخرت میں ا س کی جزاء کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اور اس میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ۔
(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں رات،دن اور مُذّکر و مُؤنّث کو پیدا کرنے والے رب تعالیٰ کی قَسم ذکر کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اے لوگو! بیشک تمہارے اعمال جداگانہ ہیں کہ کوئی جنت کے لئے عمل کرتا ہے اور کوئی جہنم کے