Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
693 - 881
سورۂ شَمس
سورۂ شمس کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ شمس مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الشّمس، ۴/۳۸۱)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 15 آیتیں  ہیں ۔
’’ شمس ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	سورج کو عربی میں شمس کہتے ہیں  اور اس سورت کی پہلی آیت میں  سورج کی قسم ارشاد فرمائی گئی اس مناسبت سے اسے’’ سورۂ شمس ‘‘کہتے ہیں ۔
سورۂ شمس سے متعلق اَحادیث:
(1)…حضرت بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ عشاء کی نماز میں  ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ا س کے مشابہ سورتیں  پڑھا کرتے تھے۔( ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی القراء ۃ فی صلاۃ العشائ، ۱/۳۳۳، الحدیث: ۳۰۹)
(2)…حضرت جابر بن سمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے انہیں  فجر کی نماز پڑھائی تو اس میں  ’’وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا‘‘ اور ’’وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ‘‘ کی تلاوت فرمائی۔( معجم الکبیر، شریک بن عبد اللّٰہ النخعی عن سماک، ۲/۲۳۱، الحدیث: ۱۹۵۸)
سورۂ شمس کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون لوگوں  کو نیک اعمال کرنے کی ترغیب دینا اور گناہ کرنے سے ڈرانا ہے اور ا س میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :