Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
676 - 881
سورۂ بَلَد
سورہ ٔبلد کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ  بلد مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ البلد، ۴/۳۷۹)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	اس سورت میں  1رکوع، 20آیتیں ہیں ۔
’’بلد ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	بلد کا معنی ہے شہر،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے شہر مکہ کی قسم ارشاد فرمائی ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ بلد‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ بلد کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  انسان کی سعادت اور بد بختی کے بارے میں  کلام کیا گیا ہے اور اس میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :
(1)…اس کی ابتداء میں  اللّٰہ تعالیٰ نے شہر ِمکہ کی ،حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قسم ذکر کر کے فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں  رہتا پیدا کیا ہے۔
(2)…بری جگہ اور بری نیت سے مال خرچ کرنے والے کی مذمت بیان کی گئی اور یہ بتایا گیا کہ وہ یہ نہ سجھے کہ اسے کوئی نہیں  دیکھ رہا بلکہ اللّٰہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
(3)…یہ بیان کیا گیا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو دو آنکھیں ،زبان اور دو ہونٹ دئیے ہیں  اور ا س کے سامنے اچھائی اور برائی دونوں  کے راستے واضح کر دئیے ہیں  اب اسے اختیار ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے جس