ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رکھے ہوئے گلاس ہوں گے۔اور صف در صف گاؤ تکیے لگے ہوئے ہوں گے۔ اور عمدہ قالین بچھے ہوئے ہوں گے۔
{وَ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ: اور رکھے ہوئے گلاس ہوں گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ چشموں کے کناروں پر ترتیب سے گلاس رکھے ہوئے ہوں گے جن کی ترتیب کا حسن اور صفائی دیکھنے سے بھی لذت حاصل ہوگی جیسے اگر کسی کے خوبصورت کچن میں جائیں جہاں ہرچیز نہایت ترتیب اور نفاست سے رکھی ہو تو اس منظر سے ہی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ جنتی جب اُن گلاسوں سے دودھ، شہد، شراب وغیرہا پینا چاہیں گے تو وہ انہیں خود ہی بھرے ہوئے ملیں گے۔ کوزے تو چشموں کے کنارے چنے ہوئے ہوں گے جبکہ ان کے گھروں کا منظر بھی قابل ِدید ہوگا کہ وہاں قالین بچھے ہوں گے جو بہت آرام دہ اور نہایت ہی خوشنماہوں گے اور صف در صف گاؤ تکیے لگے ہوئے ہوں گے۔
یہاں جداگانہ عرض ہے کہ گھر کی اَشیاء کا نفاست و صفائی اور ترتیب سے ہونا ایک عمدہ خوبی ہے لہٰذا گھروں میں جو اشیاء موجود ہوں انہیں ترتیب اور ڈھنگ سے رکھنا چاہیے۔
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ(۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسا بنایا گیا ہے۔
{اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ: تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے۔} اس سورت میں جنت کی نعمتوں کا ذکر سن کر کفار نے تعجب کیا اورانہیں جھٹلایاتو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اپنے کارخانہِ قدرت اور عجائبات ِ عالَم میں نظر کرنے کی ہدایت فرمائی کہ وہ دیکھیں ، غور کریں اورسمجھیں کہ جس قادر حکیم نے دنیا میں ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں ،اس کی قدرت سے جنتی نعمتوں کا پیدا فرمانا کس طرح قابلِ تعجب اور لائقِ انکار ہوسکتا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا یہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ