Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
611 - 881
اور دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جب وہ کسی کی پکڑ فرمائے گا تو وہ پکڑ بھی انتہائی سخت ہو گی۔( خازن، البروج، تحت الآیۃ: ۱۳، ۴/۳۶۷، جمل، البروج، تحت الآیۃ: ۱۳، ۸/۲۸۸، ملتقطاً)
{وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ: اور وہی بہت بخشنے والاہے، نہایت محبت فرمانے والا ہے۔} یعنی جو کافر اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے ،اسی طرح جو گناہگار مسلمان اپنے گناہوں  سے توبہ کر لے تو اسے اللّٰہ تعالیٰ ہی بخشنے والاہے بلکہ اگر اللّٰہ تعالیٰ چاہے تو گناہگار مسلمان کو توبہ کے بغیر ہی بخش سکتا ہے اور وہی اپنے نیک بندوں  سے محبت فرمانے والا ہے۔( روح البیان، البروج، تحت الآیۃ: ۱۴، ۱۰/۳۹۲، جلالین، البروج، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۴۹۶، ملتقطاً)
هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِۙ(۱۷) فِرْعَوْنَ وَ ثَمُوْدَؕ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تمہارے پاس لشکروں  کی بات آئی ۔وہ لشکر کون فرعون اور ثمود ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تمہارے پاس لشکروں  کی بات آئی۔ فرعون اور ثمود۔
{هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ: کیا تمہارے پاس لشکروں  کی بات آئی۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کی طرف سے اہل ایمان کو اَذِیَّتیں  پہنچنے کے حوالے سے اصحابُ الاُخْدود کا حال بیان کر کے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اور ان کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو تسلی دی گئی اور اب یہاں  سے اصحابُ الاُخْدود سے بھی پہلے کے کفار کا حال بیان کر کے تسلی دی جا رہی ہے چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک آپ کے پاس فرعون اورا س کی قوم اور ثمود کے ان لشکروں  کی خبر آئی ہے جنہیں  کافر لوگ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں  لائے تھے اور آپ کو ان کے انجام کے بارے میں  معلوم بھی ہے کہ وہ لشکر اپنے کفر کے سبب ہلاک کر دئیے گئے ،لہٰذا آپ اپنی قوم کو اللّٰہ تعالیٰ کی سخت پکڑ کے بارے میں  بتائیں  اور انہیں  سابقہ کفار کے حالات اور ان کا انجام سنا کر ڈرائیں  کہ اگر تم اپنی حرکتوں  سے باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی انہی جیسا ہوگا۔( تفسیرکبیر ، البروج ، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸ ، ۱۱/۱۱۵ ، ابو سعود، البروج، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۵/۸۵۶، جلالین، البروج، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ص۴۹۶، ملتقطاً)