Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
595 - 881
(4)…اگر اتنی آواز سے آیتِ سجدہ پڑھی کہ وہ خود سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے آواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔
(5)… سجدۂ تلاوت کے لئے بھی وہی شرطیں  ہیں  جو نماز کے لئے ہیں  جیسے طہارت، قبلہ رو ہونا اور ستر عورت وغیرہ ۔
 (6)…اگر امام نے نماز میں  آیتِ سجدہ پڑھی تو اس پر اور مقتدیوں  پر اور جو شخص نماز میں  تو نہ ہو لیکن اس آیت کو سن لے تو اس پر سجدہ ٔ تلاوت کرناواجب ہے۔ (اس مسئلے کاخیال بطورِ خاص ان لوگوں  کو رکھنا چاہئے جو تروایح پڑھنے کے لئے مسجد میں  حاضر ہوتے ہیں  یا گھروں  میں  بیٹھے مرد یا عورتیں  امام کی تلاوت کو سن رہے ہوتے ہیں ، البتہ آیتِ سجدہ سننے سے عورت پر سجدۂ تلاوت اس صورت میں  واجب ہوگا کہ وہ اس وقت جنابت، حیض یا نفاس کی حالت میں  نہ ہو۔)
(7)… سجدہ کی جتنی آیتیں  پڑھی جائیں  گی اتنے ہی سجدے واجب ہوں  گے اور اگر ایک ہی آیت ایک مجلس میں  بار بار پڑھی گئی تو ایک ہی سجدہ واجب ہوگا۔
(8)…سجدہ کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتا ہوا سجدہ میں  جائے اور کم سے کم تین بار سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہے، پھر اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہتاہوا کھڑا ہو جائے، سجدۂ تلاوت کے شروع اور آخر میں  دونوں  بار اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں  جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں  قیام مستحب ہیں ۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، ۱/۷۲۸-۷۳۱، تفسیر احمدی، سورۃ انشقت، ص۷۳۹، ملتقطاً)
	نوٹ:سجدۂ تلاوت کے بارے میں  مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے بہارِ شریعت،جلد نمبر1، حصہ نمبر 4 سے ’’سجدۂ تلاوت کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔ 
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُكَذِّبُوْنَ٘ۖ(۲۲) وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُوْعُوْنَ٘ۖ(۲۳) فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۲۴) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ۠(۲۵)