ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توسجدہ نہیں کرتے۔
{وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَ: اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توسجدہ نہیں کرتے۔} شانِ نزول: جب ’’سورۂ اِقْرَاْ‘‘ میں آیت ’’وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ‘‘ ()نازل ہوئی تورسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ آیت پڑھ کر سجدہ کیا، مؤمنین نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا البتہ کفارِ قریش نے سجدہ نہ کیا تواُن کے اس فعل کی برائی میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جب کفار کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ سجدئہ تلاوت نہیں کرتے۔( تفسیر احمدی، سورۃ انشقت، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۷۳۸)
امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’کفار چونکہ انتہائی فصیح و بلیغ تھے ا س لئے قرآن سننے کے بعد ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ قرآن کو اپنی مثل لانے سے عاجز کر دینے والا مان لیں اور جب انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی نبوت درست ہونے اور اَحکامات اور ممنوعات میں ان کی اطاعت واجب ہو نے کو جان لیا تو (ان پر لازم تھا کہ وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت کریں ،اور چونکہ کفار نے ا یسا نہیں کیا اس لئے) قرآن سن کر سجدہ نہ کرنے پر اللّٰہ تعالیٰ کا ان کی مذمت کرنا حق ہے۔( تفسیرکبیر، الانشقاق، تحت الآیۃ: ۲۱، ۱۱/۱۰۴)
سجدۂ تلاوت سے متعلق8شرعی مسائلـ:
یہاں آیت کی مناسبت سے سجدۂ تلاوت سے متعلق 8 شرعی مسائل ملاحظہ ہوں ۔
(1)… اس آیت سے ثابت ہواکہ سجدئہ تلاوت کی آیت سننے والے پر سجدہ ٔتلاوت کرنا واجب ہے اور حدیث سے ثابت ہے کہ وہ آیت پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدۂ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
(2)… قرآنِ کریم میں کل چودہ آیتیں ایسی ہیں جنہیں پڑھنے یا سننے سے سجدہ ٔ تلاوت واجب ہوجاتا ہے خواہ سننے والے نے سننے کا ارادہ کیا ہو یا نہ کیاہو۔
(3)…آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے البتہ پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آواز سے پڑھا ہو کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سن سکے۔