اور جب مسلمانوں کو دیکھتے توکہتے: بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر ایمان لے آئے اور دنیا کی لذتوں کو آخرت کی امیدوں پر چھوڑ دیا۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ان کافروں کو مسلمانوں پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا گیا کہ وہ اُن کے احوال اور اعمال پر گرفت کریں بلکہ ان کفار کو اپنی اصلاح کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنا حال درست کریں ، دوسروں کو بے وقوف بتانے اور ان کی ہنسی اڑانے سے یہ لوگ کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، تو جس طرح کافر دنیا میں مسلمانوں کی غربت اور محنت پر ہنستے ہیں اسی طرح قیامت کے دن ایمان والے کافروں پر ہنسیں گے اور قیامت کے دن معاملہ اس کے برعکس ہو گا کہ ایمان والے دائمی عیش اور راحت میں ہوں گے اور کافر ذلت و خواری کے دائمی عذاب میں ہوں گے ،جب جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا تو کافر جہنم سے نکلنے کے لئے دروازے کی طرف دوڑیں گے اور جب وہ دروازہ کے قریب پہنچیں گے تو دروازہ بند ہوجائے گا اوران کے ساتھ بار بار ایسا ہی ہوگا اور کافروں کی یہ حالت دیکھ کر مسلمان اُن پر ہنسیں گے اور مسلمانوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ جنت میں جواہرات کے تختوں پر بیٹھ کر کفار کی ذلت و رسوائی اورعذاب کی شدت کودیکھ رہے ہوں گے اور اس پر ہنستے ہوں گے اور کافروں کو ان کے کئے ہوئے ان اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا جو اُنہوں نے دُنیا میں کئے تھے کہ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور ان پر ہنستے تھے۔بعض مفسرین نے ان آیات کے شانِ نزول میں یہ روایت بھی ذکر کی ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ تشریف لے جارہے تھے، منافقین نے انہیں دیکھ کر آنکھوں سے اشارے کئے اور مَسْخری سے ہنسے اور آپس میں ان حضرات کے حق میں بے ہودہ کلمات کہے، تو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں پہنچنے سے پہلے ہی یہ آیتیں نازل ہوگئیں ۔( تفسیرکبیر،المطفّفین،تحت الآیۃ: ۲۹-۳۶، ۱۱/۹۴-۹۵، خازن، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۲۹-۳۶، ۴/۳۶۲، مدارک، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۲۹-۳۶، ص۱۳۳۱-۱۳۳۲، ملتقطاً)