فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَۙ(۳۴) عَلَى الْاَرَآىٕكِۙ-یَنْظُرُوْنَؕ(۳۵) هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ۠(۳۶)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے اور جب اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بے شک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں اور یہ کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے تو آج ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں کیوں کچھ بدلہ ملا کافروں کو اپنے کئے کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک مجرم لوگ ایمان والوں پر ہنسا کرتے تھے۔اور جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تو یہ آپس میں (ان پر) آنکھوں سے اشارے کرتے تھے۔اور جب یہ کافر اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تو خوش ہو کر لوٹتے۔ اور جب مسلمانوں کو دیکھتے توکہتے: بیشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں ۔حالانکہ ان کافروں کو مسلمانوں پر نگہبان بناکر نہیں بھیجا گیا۔تو آج ایمان والے کافروں پر ہنسیں گے۔تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔ کیا بدلہ دیا گیا کافروں کو اس کا جو وہ کام کرتے تھے۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا: بیشک مجرم لوگ۔} اس سے پہلی آیات میں آخرت میں اَبرار کو ملنے والی نعمتوں کو بیان کیا گیا اور اب یہاں سے مسلمانوں کو تسلی دینے کے لئے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں کفار کس طرح مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے تھے اور آخرت میں معاملہ ا س کے برعکس ہو گا،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی7آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک مجرم لوگ جیسے ابوجہل ، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل وغیرہ کفار کے سردار ایمان والوں جیسے حضرت عمار، حضرت خباب ،حضرت صہیب اورحضرت بلال وغیرہ غریب مؤمنین پر ہنسا کرتے تھے اور جب وہ غریب مومنین ان مالدار کافر سرداروں کے پاس سے گزرتے تو یہ سردارآپس میں طعن کے طور پر ان مومنین پر آنکھوں سے اشارے کرتے تھے اور جب یہ کافر اپنے گھروں کو لوٹتے تومسلمانوں کو برا کہہ کر آپس میں اُن کی ہنسی بناتے اور خوش ہوتے ہوئے لوٹتے