وہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے سے محروم رہے اسی طرح قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کا دیدار کرنے سے محروم رہیں گے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔
(4)… نیک لوگوں کے نامۂ اعمال کی جگہ اور ان کی جزا بیان کی گئی ۔
(5)…اس سورت کے آخر میں بیان کیاگیاکہ دنیا میں جو کافر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے اور ان پر ہنستے تھے ، قیامت کے دن ان کی رسوائی اور دردناک انجام دیکھ کر مسلمان ان پر ہنسیں گے۔
سورۂ اِنفطار کے ساتھ مناسبت:
سورۂ مُطَفِّفِیْنَکی اپنے سے ماقبل سورت’’انفطار‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ انفطار کے آخر میں نافرمانی کرنے والوں کو ڈرایا گیا کہ قیامت کے دن کوئی جان کسی جان کیلئے کچھ اختیار نہ رکھے گی اور سارا حکم اس دن اللّٰہ تعالیٰ کا ہوگا،اور سورۂ مُطَفِّفِیْنَ کی ابتداء میں بھی نافرمانی کرنے والوں کے لئے وعید بیان کی گئی ہے۔( تفسیرکبیر، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۱، ۱۱/۸۲)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ(۶)