کرتا رہے اور اگر ا س میں یہ علامات پائی جاتی ہیں تو اسے چاہئے کہ فوراً ہوشیار ہو جائے اور اپنے اوپر سے شیطان کا غلبہ دور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو جائے تاکہ قیامت کے دن شیطان کے گروہ میں شامل ہونے اور ان جیسے برے انجام سے بچ سکے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں شیطان پر غلبہ نصیب فرمائے،اٰمین۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓىٕكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک وہ جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں ۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔} یعنی بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عداوت رکھتے اور ان کے احکامات کی مخالفت کرتے ہیں وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ذلیل لوگوں میں شامل ہیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت اللّٰہ تعالیٰ کی مخالفت ہے کیونکہ زمانۂ رسالت کے کفار و منافقین اپنے گمان میں اللّٰہ تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ کافر توکفربھی یہ سمجھ کر کرتا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، البتہ وہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کرتے ہیں اوراسے اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی مخالفت فرما یا ہے۔
كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ لکھ چکا کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول بے شک اللّٰہ قوت والا عزت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ لکھ چکا ہے کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول بیشک اللّٰہ قوت والا، سب پر غالب ہے۔