Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
54 - 881
اور دین ِاسلام میں  داخل ہونے سے روکتے ہیں ، تو ان کے کفر اور راہِ خدا سے روکنے کی بنا پران کے لیے آخرت میں  رسوا کردینے والا عذاب ہے۔ ان کے مال اور ان کی اولاد اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے انہیں  کچھ کام نہ دیں  گے اور قیامت کے دن انہیں  عذابِ الٰہی سے بچا نہ سکیں  گے، وہ دوزخی ہیں  اور اس میں  ہمیشہ رہیں  گے ۔( روح البیان،المجادلۃ،تحت الآیۃ:۱۵-۱۷،۹/۴۰۸، خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۷، ۴/۲۴۲-۲۴۳، ملتقطاً)
یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن اللّٰہ ان سب کو اٹھائے گا تو اُس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں  کھائیں  گے جیسی تمہارے سامنے کھارہے ہیں  اور وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ انھوں  نے کچھ کیا سنتے ہو بے شک وہی جھوٹے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن اللّٰہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں  کھائیں  گے جیسے تمہارے سامنے کھارہے ہیں  اور وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ وہ کسی چیزپر ہیں ۔خبردار! بیشک وہی جھوٹے ہیں ۔ 
{یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا: جس دن اللّٰہ ان سب کو اٹھائے گا۔} یعنی وہ دن یاد کریں  جس دن اللّٰہ تعالیٰ ان سب منافقوں کو اٹھائے گا تو اس کی بارگاہ میں  بھی قسمیں  کھائیں  گے کہ دنیا میں  ہم مخلص مومن تھے منافق نہ تھے جیسے آج تمہارے سامنے دنیا میں کھارہے ہیں  اور وہ اپنی جھوٹی قسموں  کو کار آمد سمجھتے ہیں  کہ ان کی بدولت بچ جائیں  گے (حالانکہ ایساہر گز نہ ہو گا)خبردار! بیشک وہی اپنی قسموں  میں  جھوٹے ہیں اور ایسے جھوٹے کہ دنیا میں  بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں  بھی بولیں  گے ، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے بھی جھوٹ بولا اورقیامت کے دن خدا کے سامنے بھی جھوٹ بولیں  گے ۔( مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۱۲۲۰، روح البیان، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۹/۴۰۹، ملتقطاً)
اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ