Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
526 - 881
برے اعمال اور قبیح اَفعال کی وجہ سے ان کے دل خوفزدہ ہوں  گے اور اس دن کی دہشت اور ہَولْناکی کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں  گی۔(روح البیان،النّازعات،تحت الآیۃ:۸-۹،۱۰/۳۱۷، مدارک،النّازعات، تحت الآیۃ: ۸-۹، ص ۱۳۱۷-۱۳۱۸، ملتقطاً)
یَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ فِی الْحَافِرَةِؕ(۱۰) ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ(۱۱) قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ(۱۲) فَاِنَّمَا هِیَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ(۱۳) فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: کافر کہتے ہیں  کیا ہم پھر الٹے پاؤں  پلٹیں  گے ۔کیا جب گلی ہڈیاں  ہوجائیں  گے۔ بولے یوں  تو یہ پلٹنا نرا نقصان ہے۔تو وہ نہیں  مگر ایک جِھڑکی ۔ جبھی وہ کھلے میدان میں  آپڑے ہوں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کافر کہتے ہیں : کیا بیشک ہم ضرور پھر الٹے پاؤں  پلٹیں  گے۔ کیا اس وقت جب ہم گلی ہڈیاں  ہوجائیں  گے؟ کہنے لگے: جب تویہ پلٹنا نقصان کا پلٹنا ہے۔تو وہ (پھونک) تو ایک جھڑکنا ہی ہے۔ تو فوراً وہ کھلے میدان میں  آپڑے ہوں  گے۔
{یَقُوْلُوْنَ: کافر کہتے ہیں ۔} اس آیت اوراس کے بعد والی 4 آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کفار سے کہا جاتا ہے کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اُٹھائے جاؤ گے تو وہ کہتے ہیں  کہ کیا ہم موت کے بعد پھر زندگی کی طرف واپس کر دئیے جائیں  گے؟کیا جب ہماری یہ حالت ہو جائے گی کہ ہماری ہڈیاں  ریزہ ریزہ ہو کر بکھر چکی ہوں  گی تو پھر بھی ہم زندہ کئے جائیں  گے؟پھر مذاق اڑانے کے طور پر وہ کہنے لگے کہ اگر موت کے بعد زندہ کیا جانا صحیح ہے اور ہم مرنے کے بعد اُٹھائے گئے تواس میں  ہمارا بڑا نقصان ہے کیونکہ ہم دنیا میں  اس بات کو جھٹلاتے رہے۔ اس پر انہیں  بتایا گیا کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو یہ نہ سمجھو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے یہ کام کچھ دشوار ہے، کیونکہ وہ قادر برحق ہے اور اس پر