Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
522 - 881
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معرکہ آرائی کی اورا س کا انجام کیا ہوا۔
(5)…مُردوں  کو دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والوں  سے خطاب فرمایا گیا اور بعض محسوس دلائل بیان کر کے اس چیز پر اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کو ثابت کیا گیا ہے۔
(6)…یہ بتایا گیا کہ آخرت میں  انسان کو اعمال نامے دیکھ کر اپنے تمام دُنْیَوی اچھے برے اعمال یاد آ جائیں  گے اور جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی تو ا س کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور ا س نے اپنے نفس کو خواہش کی پیروی کرنے سے روکا تو اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔
(7)…اس سورت کے آخر میں  بتایاگیا کہ جو کافر قیامت قائم ہونے کے وقت کے بارے میں  پوچھ رہے ہیں  انہیں  وہ وقت بتانا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ذمہ داری نہیں  بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ذمہ داری صرف اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا ہے اور کافر جب اس قیامت کودیکھیں  گے تو اس کی ہَولْناکی اور دہشت سے اپنی زندگانی کی مدت ہی بھول جائیں  گے۔
سورۂ نباء کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ نازعات کی اپنے سے ما قبل سورت’’نبائ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  میں  قیامت،اس کے احوال، نیک مسلمانوں  کے انجام اور کافروں  کے ٹھکانے کے بارے میں  بتایاگیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ(۱) وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ(۲)