سورۂ نازعات
سورۂ نازعات کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ نازعات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ النّازعات، ۴/۳۴۹)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع، 46آیتیں ہیں ۔
’’نازعات ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اُن فرشتوں کونازعات کہتے ہیں جو انسانوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور چونکہ اس سورت کی پہلی آیت میں ان فرشتوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی اس مناسبت سے اسے’’سورۂ نازعات‘‘ کہتے ہیں
سورۂ نازعات کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں توحید، نبوت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر کلام کیا گیا ہے اور اس میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں ۔
(1)…اس سورت کی ابتداء میں مختلف خدمات پر مامور فرشتوں کی قسم ذکر کرکے بتایاگیا کہ قیامت کے دن کافروں کو ضرور دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔
(2)…قیامت کے دن کی ہَولْناکی اور دہشت سے کفار کا جو حال ہو گا وہ بیان کیا گیا۔
(3)…مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے میں کفار کے اَقوال بیان کئے گئے اور ان کفارکا رد کیا گیا۔
(4)…عبرت اور نصیحت کے لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون کا واقعہ بیان کیا گیا کہ کس طرح اس نے