Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
519 - 881
اس نے ٹھیک بات کہی ہو۔ وہ سچا دن ہے، اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے۔
{جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ: (یہ) بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے اطاعت گزار بندو ں  سے جو وعدہ فرمایا ہے یہ اس وعدے کے مطابق تمہارے اعمال کے بدلے کے طور پرتمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نہایت کافی عطا ہے اور تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ وہ ہے جو آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اوروہ نہایت رحم فرمانے والا ہے اور جس دن حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اور سب فرشتے صفیں  بنائے کھڑے ہوں  گے تواس دن لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے رعب و جلال اور خوف کی وجہ سے اس سے مصیبت دور کرنے اور عذاب اٹھا دینے کی بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں  گے البتہ جسے رحمن عَزَّوَجَلَّ نے کلام کرنے یا شفاعت کرنے کی اجازت دی ہو اور اس نے دنیا میں  ٹھیک بات کہی ہواور اُسی کے مطابق عمل کیا ہو تو وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کلام کر سکے گا۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ٹھیک بات سے کلمۂ طیّبہ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ  مراد ہے۔( جلالین مع صاوی،النّبأ،تحت الآیۃ:۳۶-۳۸، ۶/۲۳۰۳-۲۳۰۴، خازن، النّبأ، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۸، ۴/۳۴۸، تفسیر قرطبی، النّبأ، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۸، ۱۰/۱۳۱-۱۳۳، الجزء التاسع عشر، ملتقطاً)
{ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ: وہ سچا دن ہے۔} یعنی قیامت کا واقع ہونا برحق ہے، اب جو چاہے نیک اعمال کر کے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف راہ بنالے تاکہ اس دن میں  عذاب سے محفوظ رہ سکے۔( جلالین، النّبأ، تحت الآیۃ: ۳۹، ص ۴۸۸)
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا ﭺ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠(۴۰)
ترجمۂکنزالایمان: ہم تمہیں  ایک عذاب سے ڈراتے ہیں  کہ نزدیک آگیا جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں  نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا ہائے میں  کسی طرح خاک ہوجاتا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم تمہیں  ایک قریب آئے ہوئے عذاب سے ڈراچکے جس دن آدمی وہ دیکھے گا جو اس کے