Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
518 - 881
وَ  اُدْخِلَ  الْجَنَّةَ  فَقَدْ  فَازَؕ-وَ  مَا  الْحَیٰوةُ  الدُّنْیَاۤ  اِلَّا  مَتَاعُ  الْغُرُوْرِ‘‘(اٰل عمران:۱۸۵)
جائیں  گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں  داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔
	لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے اعمال کرے جس سے دنیا میں  بھی سُرْخْرُو ہو اور آخرت میں  بھی اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے جنت اور ا س کی ابدی نعمتیں  حاصل کر لے۔
جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًاۙ(۳۶) رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا یَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًاۚ(۳۷) یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ صَفًّا ﯼ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا(۳۸) ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّۚ-فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان:  صلہ تمہارے رب کی طرف سے نہایت کافی عطا ۔وہ جو رب ہے آسمانوں  کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے رحمن کہ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں  گے ۔جس دن جبریل کھڑا ہوگا اور سب فرشتے پرا باندھے کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمن نے اِذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی۔ وہ سچا دن ہے اب جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ بنالے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  (یہ) بدلہ ہے تمہارے رب کی طرف سے نہایت کافی عطا۔ وہ جو آسمانوں  اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، نہایت رحم فرمانے والا ہے، لوگ اس سے بات کرنے کا اختیار نہ رکھیں  گے۔ جس دن جبریل اور سب فرشتے صفیں  بنائے کھڑے ہوں  گے۔ کوئی نہ بول سکے گا مگر وہی جسے رحمن نے اجازت دی ہو اور