اولیاء ِکرام کے مزارات پر شیرینی لے جانے کی دلیل :
اس آیت ِمبارکہ سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ اولیاء ِکرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مْ کے مزارات پر صدقہ کرنے کے لئے شیرینی وغیرہ لے کر جانا جائز ہے، چنانچہ صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرت مترجمقدس سرہ(یعنی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )نے فرمایا: یہ اس کی اصل ہے جو مزاراتِ اولیاء پر تَصَدُّق کیلئے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں ۔( خزائن العرفان، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۰۰۵)
ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍؕ-فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا اور اللّٰہ نے اپنی مِہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ اور اس کے رسول کے فرماں بردار رہو اور اللّٰہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے (یہ) نہ کیا اور اللّٰہ نے اپنی مہر بانی سے تم پر رجوع فرمایا توتم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللّٰہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو اور اللّٰہ تمہارے کاموں کی خوب خبر رکھنے والا ہے۔
{ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ: کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو ۔}یعنی کیا تم غر یبی اور ناداری کی وجہ سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں اپنی عرض سے