Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
483 - 881
{اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً: بیشک یہ تمہارے لیے صلہ ہے۔} جب جنت میں  داخل ہونے کے بعد جنتی اس کی نعمتوں  کا مُشاہدہ کریں  گے تو ان سے فرمایا جائے گا : بیشک یہ نعمتیں  اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری اطاعت اور فرمانبرداری کا صلہ ہے اور تمہاری محنت کی قدر کی گئی ہے کہ تم سے تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ راضی ہوا اور اس نے تمہیں  ثواب ِعظیم عطا فرمایا۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۴/۳۴۱، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۱۳۰۸، ملتقطاً)
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک ہم نے تم پر قرآن بَتَدْرِیج اتارا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اے حبیب!) بیشک ہم نے تم پر تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن اتارا۔
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا: بیشک ہم نے تم پر تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن اتارا۔} اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ پر ایک ہی مرتبہ پورا قرآن نازل نہیں  کیا بلکہ آیت آیت کر کے تھوڑا تھوڑا نازل کیا اورا س میں  اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں  ہیں ۔اس سے مقصودحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کو تَقْوِیَت دینا ہے ، گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ کافر اگرچہ قرآن کو کہانَت اور جادو کہتے ہیں  لیکن میں  تاکید کے ساتھ فرماتا ہوں  کہ یہ قرآن میری طرف سے وحی ہے،حق ہے اورہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے لہٰذا آپ کافروں  کی طعنہ زنی سے دِلبرداشتہ نہ ہوں  کیونکہ آپ سچے نبی ہیں ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۳، ۴/۳۴۱، روح البیان، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰/۲۷۷، ملتقطاً)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: تو اپنے رب کے حکم پر صابر رہو اور ان میں  کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات نہ سنو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اپنے رب کے حکم پر ڈٹے رہو اور ان میں  کسی گناہگار یا ناشکری کرنے والے کی بات نہ سنو۔