کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے،اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴، ۴/۳۴۰)
وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(۱۵) قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گے۔ کیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انھیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَور ہوں گے جو شیشے کی طرح ہوں گے۔چاندی کے شفاف شیشے جنہیں پلانے والوں نے پورے اندازہ سے (بھر کر) رکھا ہوگا۔
{وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ: اور ان پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَور ہوں گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ان نیک بندوں پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں میں جنتی شراب کے دَور ہوں گے اور وہ برتن چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ شیشے کی طرح صاف شفاف ہوں گے اور ان میں جو چیز پی جائے گی وہ باہر سے نظر آئے گی اور ان برتنوں کوپلانے والوں نے پورے اندازے سے بھر کر رکھا ہوگا کہ پینے والوں کی رغبت کی مقدار نہ اس سے کم ہو گی اور نہ زیادہ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ۴/۳۴۰، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶، ص۱۳۰۷، ملتقطاً)