Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
478 - 881
الْمُضْعِفُوْنَ‘‘(روم:۳۹)
لوگ (اپنے مال) بڑھانے والے ہیں ۔
فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ(۱۱) وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِۚ-لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ(۱۳) وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا(۱۴)
ترجمۂکنزالایمان: تو انھیں  اللّٰہ نے اس دن کے شر سے بچالیا اور انھیں  تازگی اور شادمانی دی ۔اور ان کے صبر پر انھیں  جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں  دئیے ۔جنت میں  تختوں  پر تکیہ لگائے ہوں  گے نہ اس میں  دھوپ دیکھیں  گے نہ ٹھٹھر۔ اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں  گے اور اس کے گچھے جھکا کر نیچے کردئیے گئے ہوں  گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو انہیں  اللّٰہ اس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں  تروتازگی اور خوشی دے گا ۔اور ان کے صبر کے سبب انہیں  جنت اور ریشمی کپڑے بدلے میں  دے گا ۔وہ جنت میں  تختوں  پر تکیہ لگائے ہوں  گے، نہ اس میں  دھوپ دیکھیں  گے اورنہ سخت سردی ۔اور اس کے سائے ان پر جھکے ہوں  گے اور جنت کے گچھے جھکا کر نیچے کردئیے گئے ہوں  گے۔
{فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ: تو انہیں  اللّٰہ اس دن کے شر سے بچالے گا ۔} ارشاد فرمایا کہ تو ان نیک بندوں  کے خوف کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے بچالے گا جس سے وہ ڈر رہے ہیں  اور ان کے چہروں  میں  تروتازگی اور دلوں  میں  خوشی دے گا ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۳۴۰)
{وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا: اور ان کے صبرکے سبب انہیں  بدلے میں  دے گا۔} اس آیت اورا س کے بعد والی دو آیات