وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴/۱۷۹، الحدیث: ۶۲۷۰)
علم حاصل کرنے کی ترغیب اور علم و علماء کے فضائل:
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماءِدین بڑے درجے والے ہیں اوردنیا و آخرت میں ان کی عزت ہے، جب اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے درجات کی بلندی کا وعدہ کیا ہے تو انہیں اس کے فضل و کرم سے دنیاوآخرت میں عزت ضرور ملے گی۔حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا:اے لوگو!اس آیت کو سمجھو اور علم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاؤ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ مومن عالِم کو اس مومن سے بلند درجات عطا فرمائے گا جو عالِم نہیں ہے ۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۴۱)
یہاں موضوع کی مناسبت سے علم اور علماء کے15فضائل ملاحظہ ہوں :
(1)…ایک ساعت علم حاصل کرنا ساری رات قیام کرنے سے بہتر ہے۔( مسند الفردوس، باب الطائ، ۲/۴۴۱، الحدیث: ۳۹۱۷)
(2)…علم عبادت سے افضل ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵/۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۳)
(3)…علم اسلام کی حیات اور دین کا ستون ہے۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵/۵۸، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۵۷)
(4)…علماء زمین کے چراغ اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں ۔ (کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الاول، ۵/۵۹، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۸۶۷۳)
(5)…مرنے کے بعد بھی بندے کو علم سے نفع پہنچتا رہتا ہے۔( مسلم، ص۸۸۶، الحدیث: ۱۴(۱۶۳۱))
(6)…ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔( ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، ۴/۳۱۱، الحدیث: ۲۶۹۰)