Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
449 - 881
 مُنْتَشِر ہوجانے سے ایسی ہوجاتی ہیں  کہ ان کوجمع کرنا ہماری قدرت سے باہر ہے ،یہ فاسد خیال اس کے دِل میں  کیوں  آیااوراس نے یہ کیوں  نہیں  جانا کہ جو پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے پر ضرور قادر ہے۔یاد رہے کہ یہاں  آیت میں  آدمی سے مراد خاص عدی بن ربیعہ ہے یا ہر وہ کافر مراد ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرتا ہے۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۳۳۳، روح البیان، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱۰/۲۴۴، ملتقطاً)
بَلٰى قٰدِرِیْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَهٗ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: کیوں  نہیں  ہم قادر ہیں  کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیوں  نہیں  ہم اس بات پر قادر ہیں  کہ اس کے انگلیوں  کے پوروں  (تک) کو ٹھیک کردیں ۔
{بَلٰى: کیوں  نہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ کیا کافر یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں  کو جمع نہیں  کر سکتے ؟کیوں  نہیں  ،ہم اس کی ہڈیوں  کو جمع کر سکتے ہیں اور ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں  کہ اس آدمی کی انگلیاں  جیسی تھیں  کسی فرق کے بغیر ویسی ہی کردیں  اور اُن کی ہڈیاں  اُن کے مقام پر پہنچا دیں ، جب ہم چھوٹی چھوٹی ہڈیاں  اس طرح ترتیب دے سکتے ہیں  تو بڑی ہڈیوں  کا کیا کہنا ،انہیں  تو بدرجہ اَوْلیٰ ترتیب دے سکتے ہیں ۔( خازن، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۳۳، مدارک، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۰۲، ملتقطاً)
بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ(۵) یَسْــٴَـلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَةِؕ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بَدی کرے ۔پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ وہ اپنے آگے کو جھٹلائے ۔پوچھتا ہے :قیامت کا دن کب ہوگا؟
{بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ: بلکہ آدمی چاہتا ہے۔} مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان کئے ہیں  ،ان میں  سے 3 معانی درج ذیل ہیں :