Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
448 - 881
لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِۙ(۱) وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِؕ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: روزِ قیامت کی قسم یاد فرماتا ہوں  ۔اور اس جان کی قسم جو اپنے اوپربہت ملامت کرے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مجھے قیامت کے دن کی قسم ہے۔اور مجھے اس جان کی قسم ہے جو اپنے اوپر ملامت کرے۔
{لَاۤ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ: مجھے قیامت کے دن کی قسم ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مُشرکین مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرتے تھے ،اللّٰہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسا تم گمان کرتے ہو درحقیقت ویسا نہیں  ہے ، مجھے قیامت کے دن کی قَسم ہے اور مجھے اس جان کی قسم ہے جو مُتَّقی اور کثرت سے نیکیاں  کرنے والی ہونے کے باوجود اپنے اوپر اپنی کوتاہیوں  کی وجہ سے ملامت کرے کہ تم مرنے کے بعد ضرور اٹھائے جاؤ گے۔( مدارک، القیامۃ، تحت الآیۃ: ۱-۲، ص۱۳۰۲)
اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں  جمع نہ فرمائیں  گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں  جمع نہ فرمائیں  گے۔
{اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے۔} شانِ نزول : یہ آیت عدی بن ربیعہ کے بارے میں  نازل ہوئی ،اس نے نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا:قیامت کب واقع ہو گی اور اس کے اَحوال کیسے ہوں  گے؟ نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے بتایا تو اس نے کہا: اگر میں  قیامت کا دن دیکھ بھی لوں  تو بھی نہ مانوں  اور آپ پر ایمان نہ لاؤں، کیا اللّٰہ تعالیٰ بکھری ہوئی ہڈیاں  جمع کردے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے معنی یہ ہیں  کہ کیا اس کافر کا یہ گمان ہے کہ ہڈیاں  بکھرنے ،گلنے ، ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں  ملنے اور ہواؤں  کے ساتھ اُڑ کر دور دراز مقامات میں