سورۂ قیامہ
سورۂ قیامہ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورئہ قیامہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ القیامۃ، ۴/۳۳۲)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2 رکوع، 40 آیتیں ہیں ۔
’’قیامہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی قَسم ارشاد فرمائی ہے ،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ قیامہ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ قیامہ کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل قائم کئے گئے ہیں اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے شُبہات کا جواب دیاگیا ہے اور اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں قیامت کے دن اور نفسِ لَوّامَہ کی قَسم ذکر کرکے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کاانکار کرنے والوں کا رد کیا گیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت بیان کی گئی۔
(2)…قیامت کے دن کی نشانیاں بیان کی گئیں کہ اس دن کی ہَولناکی دیکھ کر آنکھ دہشت اور حیرت زَدہ ہوجائے گی، چاند تاریک ہوجائے گا اور سورج اور چاند کو ملادیا جائے گا۔
(3)…یہ بیان کیا گیا کہ قیامت کے دن انسان کواس کے اگلے پچھلے ، اچھے برے سب عمل بتا دئیے جائیں گے اور اگر اس نے کوئی معذرت پیش کی تو وہ قبول نہیں کی جائے گی۔