Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
445 - 881
كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ(۵۴) فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ(۵۵) وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُؕ-هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠(۵۶)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں  ہاں  بے شک وہ نصیحت ہے۔تو جو چاہے اس سے نصیحت لے۔ اور وہ کیا نصیحت مانیں  مگر جب اللّٰہ چاہے وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: سن لو! بیشک وہ نصیحت ہے۔تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے ۔اور وہ اللّٰہ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں  ۔وہی لائق ہے کہ (اس سے) ڈرا جائے اور مغفرت فرمانے والاہے۔
{كَلَّاۤ: سن لو!۔} اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو، بیشک وہ قرآن شریف عظیم نصیحت ہے تو جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے کیونکہ اس کا فائدہ اسے ہی ہو گا اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے چاہنے سے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں  ۔وہی اللّٰہ اس لائق ہے کہ اس کے بندے اس سے ڈریں  اور ا س کے عذاب سے خوفزدہ ہوں ، اس پر ایمان لائیں  اور اس کی اطاعت کریں  اور وہی بندوں  کے سابقہ کفر اور گناہوں  کی مغفرت فرمانے والا ہے۔( خازن، المدثر، تحت الآیۃ: ۵۴-۵۶، ۴/۳۳۲)
اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت:
	حضرتِ انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت ’’هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ‘‘ کے بارے میں ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’میں  اس لائق ہوں  کہ مجھ سے ڈرا جائے لہٰذا جو مجھ سے ڈرا اور ا س نے میرے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہ بنایا تو میں  اس بات کا اہل ہوں  کہ اسے بخش دوں ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المدثر،۵/۲۱۷، الحدیث: ۳۳۳۹)