اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: مگر اللّٰہ کے پیام پہنچانا اور اس کی رسالتیں اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بے شک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر (میرا کام) اللّٰہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات (پہنچانا ہے) اور جو اللّٰہ اور اس کے رسول کا حکم نہ مانے تو بیشک اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
{اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ: مگر اللّٰہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات پہنچانا ہے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مشرکین سے فرمادیں کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک نہیں البتہ میرا کام یہ ہے کہ میں تمہیں ان چیزوں کی تبلیغ کردوں جن کی تبلیغ کرنے کا مجھے اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور تم تک اللّٰہ تعالیٰ کے وہ پیغامات پہنچا دو ں جو ا س نے مجھے دے کر تمہاری طرف بھیجا ہے اور جہاں تک ہدایت اور گمراہی کا تعلق ہے تو اس کا اختیار مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے ، وہ جسے چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہ کرے اور جو توحید کے معاملے میں اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی یوں نافرمانی کرے گا کہ انہوں نے جس چیز کا حکم دیااور جس چیز کی طرف بلایا اس پر عمل کرنے کی بجائے شرک کرنے لگے تو بیشک ان کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔( تفسیرطبری،الجن،تحت الآیۃ:۲۳، ۱۲/۲۷۴-۲۷۵، روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰/۱۹۹-۲۰۰، ملتقطاً)
حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا(۲۴)