Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
396 - 881
اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِؕ-اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ ِالْبَیِّنٰتِۚ-فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ‘‘ (توبہ:۶۸۔۷۰)
اعمال دنیا و آخرت میں  برباد ہوگئے اور وہی لوگ گھاٹے میں  ہیں ۔ کیا ان کے پاس ان سے پہلے لوگوں  (یعنی) قومِ نوح اور عاد اور ثمود اور قومِ ابراہیم اور مدین اور الٹ جانے والی بستیوں کے مکینوں  کی خبر نہ آئی؟ ان کے پاس بہت سے رسول روشن نشانیاں  لے کر تشریف لائے تو اللّٰہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں  پر ظلم کررہے تھے۔
	اے کاش!دولت مند مسلمان اپنی عملی حالت پر غور کرکے اسے سدھارنے کی کوشش کریں  اور اللّٰہ تعالیٰ کا دیا ہو امال ا س کی نافرمانی میں  خرچ کرنے کی بجائے صرف اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں  صرف کرنے کی طرف راغب ہوجائیں  ۔اللّٰہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فر مائے،اٰمین۔
{وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ: اور جو اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے۔} یعنی جو قرآنِ پاک سے یا اللّٰہ تعالیٰ کی  وحدانیَّت کا اقرار کرنے سے یا اس کی عبادت کرنے سے منہ پھیرے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے چڑھ جانے والے عذاب میں  ڈال دے گا جس کی شدت دم بدم بڑھتی ہی جائے گی۔(مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۱۲۸۹، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۷، ۴/۳۱۸، ملتقطاً)
اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ پھیرنے والے کا انجام:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ جو شخص اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ پھیرے ا س کا انجام انتہائی دردناک ہے ،ایسے شخص کے بارے میں  ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(۱۲۴) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵) قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں  گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں  اٹھایا حالانکہ میں  تو دیکھنے والاتھا؟ اللّٰہ