کرنے سے انکار کر دیا اور راہِ حق سے پھر گئے تو جنہوں نے اسلام قبول کر لیاانہوں نے تو ہدایت کا قصد کیا ، ہدایت اور راہِ حق کو اپنا مقصود ٹھہرایا اوربہرحال جو کافر اور راہِ حق سے پھرنے والے ہیں وہ قیامت کے دن جہنم کے ایندھن ہوں گے اور ان کے ذریعے جہنم کو بھڑکایا جائے گا۔( تفسیرقرطبی،الجن،تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۱۰/۱۴، الجزء التاسع عشر، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۴-۱۵، ۴/۳۱۷، ملتقطاً)
{ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ: تو وہ جہنم کے ایندھن ہوگئے۔} اِس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر جن جہنم کی آگ کے عذاب میں گرفتار کئے جائیں گے اور یاد رہے کہ جِنّات اگرچہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں لیکن اللّٰہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ آگ کو آگ کے ذریعے عذاب میں مبتلاء کر دے یا جِنّات کی ہَیئَت تبدیل کر کے انہیں عذاب دے لہٰذا یہاں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب جِنّات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں تو انہیں آگ سے عذاب کیسے ہو گا۔( مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۲۸۹، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۳۱۷-۳۱۸، ملتقطاً)
وَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور فرماؤ کہ مجھے یہ وحی ہوئی کہ اگر وہ راہ پر سیدھے رہتے تو ضرور ہم انھیں وافر پانی دیتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ اگر وہ راستے پر سیدھے ہوجاتے تو ضرور ہم انہیں وافرمقدار میں پانی دیتے۔
{وَ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ : اور یہ کہ اگر وہ راستے پر سیدھے ہوجاتے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی امت سے فرمادیں کہ مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر انسان اسلام کے راستے پر سیدھے ہوجاتے اور ایمان لے آتے تو ضرور ہم دنیا میں ان پر رزق وسیع کرتے اور انہیں کثیر پانی اور وُسعتِ عیش عنایت فرماتے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں ’’ مجھے یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر کافر اپنی گمراہی کے راستے پر قائم رہتے تو ہم ان پر اپنا رزق وسیع کر دیتے۔( خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴/۳۱۸، ابن کثیر، الجن، تحت الآیۃ: ۱۶، ۸/۲۵۵، ملتقطاً)
پہلی تفسیر کی نظیر یہ آیاتِ مبارکہ ہیں :