Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
387 - 881
گا،پھر اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں  کی طرف آخری نبی محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھیجا تو وہ ان پر ایمان لائے، لہٰذا اے جِنّات کے گروہ ! تم بھی انسانوں  کی طرح سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آؤ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے کفارِ قریش! جِنّات بھی تمہاری طرح یہی گمان کرتے تھے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہرگز کسی کو مرنے کے بعدنہیں  اٹھائے گا،پھر جب انہوں  نے قرآن سنا تو وہ ہدایت پا گئے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا اقرار کرنے لگے تو تم جِنّات کی طرح اقرار کیوں  نہیں  کرتے۔( روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰/۱۹۲، مدارک، الجن، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۲۸۸، ملتقطاً)
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ(۸)وَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِؕ-فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں  سے بھردیا گیا ہے۔اور یہ کہ ہم پہلے آسمان میں  سننے کے لیے کچھ موقعوں  پر بیٹھا کرتے تھے پھر اب جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں  آگ کا لوکا پائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں  سے بھردیا گیا ہے۔ اور یہ کہ ہم پہلے آسمان میں  سننے کے لیے کچھ بیٹھنے کی جگہوں  پر بیٹھ جایاکرتے تھے، پھر اب جو کوئی سنے وہ اپنی تاک میں  آگ کاشعلہ پائے گا۔
{وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ: اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جِنّات نے کہا: ہم نے اپنی عادت کے مطابق آسمان والوں  کا کلام سننے کیلئے آسمانِ دنیا پر جانا چاہا تو اسے یوں  پایا کہ