Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
386 - 881
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ آدمیوں  میں  کچھ مرد جنّوں  کے کچھ مردوں  کی پناہ لیتے تھے تو اس سے اور بھی ان کا تکبر بڑھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ آدمیوں  میں  سے کچھ مرد جنوں  کے کچھ مردوں  کی پناہ لیتے تھے تو انہوں  نے ان جنوں  کی سرکشی کو مزید بڑھا دیا۔
{ وَ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ: اور یہ کہ آدمیوں  میں  سے کچھ مرد۔} دَورِ جاہلیَّت میں  عرب کے لوگ جب سفر کرتے اور کسی چٹیل میدان میں  انہیں  شام ہو جاتی تو وہ کہتے کہ ہم اس جگہ کے شریر جِنّات سے ان کے سردار کی پناہ چاہتے ہیں ، اس طرح ان کی رات امن سے گزر جاتی ۔انسانوں  کے اسی عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اِن جِنّات  نے اپنی قوم سے کہا کہ آدمیوں  میں  سے کچھ مرد جنوں  کے کچھ مَردوں  کی پناہ لیتے تھے اورجب جِنّات نے انسانوں  کی یہ حالت دیکھی تووہ سمجھے کہ واقعی ہم میں  بہت قدرت ہے کیونکہ مخلوق میں  سب سے بہتر یعنی انسان بھی ہمارے حاجت مند ہیں ، انسانوں  کے اسی عمل کی وجہ سے جِنّات میں  سرکشی بڑھ گئی اور وہ شیطانوں  کی پیروی کرنے اور ان کے وسوسے قبول کرنے کی طرف اور زیادہ راغب ہو گئے۔( خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۳۱۶، روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۱۹۱، ملتقطاً)
وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ(۷)ترجمۂکنزالایمان: اور یہ کہ انہوں  نے گمان کیا جیسا تمہیں  گمان ہے کہ اللّٰہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ انہوں  نے ویسے ہی گمان کیا جیسا (اے جنو) تم نے گمان کیا کہ اللّٰہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا (یا، ہرگز کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کرے گا)۔
{وَ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ: اور یہ کہ انہوں  نے ویسے ہی گمان کیا جیسا (اے جنو) تم نے گمان کیا۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ ایمان قبول کرنے والے جِنّات نے اپنی قوم کے کافر جِنّات سے کہا کہ اے جنو! انسانوں  نے بھی ویسے ہی گمان کیا تھا جیسا کہ تم نے گمان کیا کہ اللّٰہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد ہر گز کوئی رسول نہ بھیجے