ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سنا تو بولے ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ۔کہ بھلائی کی راہ بتا تا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ کریں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے حبیب!تم فرماؤ، میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کے ایک گروہ نے(میری تلاوت کو) غور سے سنا تو انہوں نے کہا: بیشک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا۔جو بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہرگز کسی کو اپنے رب کا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے سامنے جِنّات کا واقعہ ظاہر فرما دیں اور یہ بات بھی بیان فرما دیں کہ جس طرح وہ انسانوں کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں اسی طرح جِنّات کی طرف بھی مبعوث فرمائے گئے ہیں تاکہ کفارِ قریش کو معلوم ہو جائے کہ جِنّات اپنی سرکشی کے باوجود جب قرآنِ مجید سنتے ہیں تو وہ ا س کے اِعجاز کو پہچان لیتے ہیں اور ا س پر ایمان لے آتے ہیں (جبکہ انسان ہونے کے باوجود ان کی حالت جِنّات سے بھی گئی گزری ہے)، چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں سے فرمادیں کہ ’’اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ نَصِیْبَینْ کے کچھ جنوں نے مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ کے مقام پر فجر کی نماز میں میری تلاوت کوغور سے سنا توانہوں نے اپنی قوم میں جا کر کہا: ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو اپنی فصاحت و بلاغت، مضامین کی خوبی اور معنی کی بلندی میں ایسا نادر ہے کہ مخلوق کا کوئی کلام اس سے کوئی نسبت نہیں رکھتا اور اس کی یہ شان ہے کہ وہ توحید اور ایمان کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو ہم اس قرآ ن پر ایمان لائے اورآج کے بعد ہم ہرگز کسی کو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا شریک نہ کریں گے۔ان جِنّات کی تعداد مفسرین نے 9 تک بیان کی ہے۔( خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱-۲، ۴/۳۱۶، جلالین، الجن، تحت الآیۃ: ۱-۲، ص۴۷۶، ملتقطاً)
ان جنوں کا ذکر سورۂ جن کے بعد نازل ہونے والی سورت ’’سورۂ اَحقاف‘‘ میں بھی کیا گیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَیْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ یَسْتَمِعُوْنَ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے محبوب! یاد کرو) جب ہم نے