طلب کرو تاکہ اللّٰہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہونا خیر و برکت اور وسعت ِرزق کا سبب ہوتا ہے اور کفر سے دنیا بھی برباد ہو جاتی ہے، بیشک اللّٰہ تعالیٰ اُسے بڑا معاف فرمانے والا ہے جو (سچے دل سے) اس کی بارگاہ میں رجوع کرے، اگر تم توبہ کر لو گے اور اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیَّت کا اقرار کرکے صرف اسی کی عبادت کرو گے تو وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا اور مال اور بیٹوں میں اضافے سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا تاکہ ان سے تم اپنے باغات اور کھیتیوں کو سیراب کرو۔( تفسیر طبری ، نوح ، تحت الآیۃ : ۱۰-۱۲ ، ۱۲/۲۴۹ ، خازن ، نوح ، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۲، ۴/۳۱۲، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۲، ص۱۲۸۳، ملتقطاً)
اِستغفار کرنے کے دینی اور دُنْیَوی فوائد:
اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دُنْیَوی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔اِستغفار کرنے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۱۰) (النساء:۱۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللّٰہ سے مغفرت طلب کرے تو اللّٰہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
اورارشاد فرمایا:’’ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ‘‘(انفال:۳۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہیں ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ اَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘ (ہود:۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کروتو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہت