میں ا س طرف بلند آواز سے ا علانیہ بلایا جس طرف بلانے کا تو نے مجھے حکم دیاتھا، پھر میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور اعلانیہ دعوت دینے کی تکرار بھی کی اور ایک ایک سے آہستہ اور خفیہ بھی کہا اور دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( تفسیر طبری ، نوح ، تحت الآیۃ : ۵-۹ ، ۱۲/۲۴۷-۲۴۸، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۵-۹، ص۱۲۸۳، خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۵-۹، ۴/۳۱۲، ملتقطاً)
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ(۱۰)یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ(۱۱)وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے ۔تم پر شرّاٹے کا مینہ بھیجے گا۔اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو میں نے کہا: (اے لوگو!) اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا۔
{ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ : تو میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو۔} یہاں سے یہ بتایاگیا ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم کو ترغیب دلا کر بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کفر و شرک سے توبہ کرنے کی دعوت دی ، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم لمبے عرصے تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلاتی رہی تو اللّٰہ تعالیٰ نے اُن سے بارش روک دی اور چالیس سال تک ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا، ان کے مال ہلاک ہوگئے اور جانور مرگئے، جب ان کا یہ حال ہوا تو حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’اے لوگو! تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کفر و شرک کرنے پر اس سے معافی مانگو اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اس سے مغفرت