Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
362 - 881
قوم بتوں  کی پُجاری تھی ، اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجااور انہیں  یہ حکم دیاکہ وہ اپنی قوم کو پہلے سے ہی ڈرادیں  کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان پر دنیا و آخرت کا دردناک عذاب آئے گا تاکہ ان کے لئے اصلاً کوئی عذر باقی نہ رہے۔یاد رہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہ سب سے پہلے رسول ہیں  جنہوں  نے کفار کو تبلیغ کی اور سب سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر ہی دُنْیَوی عذاب آیا۔( سمرقندی، نوح، تحت الآیۃ: ۱، ۳/۴۰۶، جلالین، نوح، تحت الآیۃ: ۱، ص۴۷۳، روح البیان، نوح، تحت الآیۃ: ۱، ۱۰/۱۷۱، ملتقطاً)
	نوٹ:لوگوں  میں  مذہبی اختلاف کی ابتداء اور کفار کی طرف اَنبیاء اور رُسل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  مبعوث فرمائے جانے کی شروعات کا بیان سورۂ بقرہ کی آیت نمبر213اور سورۂ یونس کی آیت نمبر19 کے تحت مذکور تفسیر میں  گزر چکا ہے اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ سورۂ اعراف ، سورۂ ہود اور ان کے علاوہ متعدد سورتوں  میں  بیان ہو چکا ہے۔
قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ(۲)اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ(۳)یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُۘ-لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اس نے فرمایا اے میری قوم میں  تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ۔ کہ اللّٰہ  کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور ایک مقرر میعاد تک تمہیں  مہلت دے گا بے شک اللّٰہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں  جاتا کسی طرح تم جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے فرمایا: اے میری قوم! بیشک میں  تمہارے لیے کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔کہ اللّٰہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا اور ایک مقررہ مدت تک تمہیں  مہلت دے گا بیشک اللّٰہ کی مقررہ مدت جب آجائے تو اسے پیچھے نہیں  کیا جاتا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم جانتے۔