Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
358 - 881
کلام دل میں  کب اثر کرتا ہے؟
	اس سے معلوم ہوا کہ کلام دل میں  تب ہی اثر کرتا ہے جب کہ کلام کرنے والے کا وقار دل میں  موجود ہو، ان کفار کے دلوں  میں  چونکہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا وقار نہ تھا اس لئے وہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وعظ سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ(۴۰)عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْۙ-وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ(۴۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو مجھے قسم ہے اس کی جو سب پوربوں  سب پچھموں  کا مالک ہے کہ ضرور ہم قادر ہیں ۔کہ ان سے اچھے بدل دیں  اور ہم سے کوئی نکل کر نہیں  جاسکتا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو مجھے تمام مشرقوں  اور تمام مغربوں  کے رب کی قسم ، بیشک ہم ضرورقادر ہیں ۔اس بات پر کہ ان سے اچھے لوگ بدل دیں  اور کوئی ہم سے نکل کر نہیں  جاسکتا۔
{فَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ : تو مجھے تمام مشرقوں  اور تمام مغربوں  کے رب کی قسم۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب معاملہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں  منی سے پیدا کر دیا تومجھے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی تمام جگہوں  کے مالک رب کی قسم! بیشک ہم اس بات پر ضرور قادر ہیں  کہ انہیں  ان کے جرموں  کی وجہ سے ہلاک کردیں  اور ان کی بجائے وہ لوگ پیدا کردیں  جو ان جیسے نہ ہوں بلکہ وہ ہمارے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوں  اور ہم انہیں  ہلاک کرنے اور دوسرے لوگ پیدا کرنے سے عاجز نہیں  لیکن ہماری انتہا کو پہنچی ہوئی حکمت اور مَشِیَّت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی سزا کو مُؤخَّر کیا جائے۔( ابو سعود،المعارج،تحت الآیۃ:۴۰-۴۱،۵/۷۷۰، خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ۴/۳۱۱، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: ۴۰-۴۱، ص۱۲۸۱، ملتقطاً)
فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ(۴۲)