Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
357 - 881
كَلَّاؕ-اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ(۳۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو ان کافروں  کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں  ۔دہنے اور بائیں  گروہ کے گروہ۔کیا ان میں  ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ چین کے باغ میں  داخل کیا جائے ۔ہرگز نہیں  بے شک ہم نے انہیں  اس چیز سے بنایا جسے جانتے ہیں  ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کافروں  کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔گروہ کے گروہ دائیں  اور بائیں  جانب سے ۔کیا ان میں  ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ اسے چین کے باغ میں  داخل کیا جائے گا۔ہرگز نہیں ، بیشک ہم نے انہیں  اس چیز سے پیدا کیا جسے جانتے ہیں ۔
{ فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: تو ان کافروں  کو کیا ہوا۔} شانِ نزول: یہ آیت کفار کی اس جماعت کے بارے میں  نازل ہوئی جو رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گرد حلقے باندھ کر گروہ کے گروہ جمع ہوتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مبارک کلام سن کر اسے جھٹلاتے ،مذاق اُڑاتے اور کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے جیسا کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) فرماتے ہیں  تو ہم ضرور ان سے پہلے جنت میں  داخل ہو جائیں  گے۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان کافروں  کا کیا حال ہے جو آپ کے پاس بیٹھتے بھی ہیں  اور گردنیں  اُٹھا اُٹھا کر دیکھتے بھی ہیں  پھر بھی جو آپ سے سنتے ہیں  اس سے نفع نہیں  اُٹھاتے۔کیا ان میں  سے ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ اسے ایمان والوں  کی طرح چین کے باغ میں  داخل کیا جائے گا!ہرگزاسے داخل نہیں کیا جائے گا (کیونکہ) ہم نے جس طرح سب آدمیوں  کو منی سے پیدا کیا اسی طرح انہیں  بھی منی سے پیدا کیا ہے اور صرف منی سے پیدا ہو جانا جنتی ہونے کا سبب نہیں  بلکہ جنت میں  داخل ہونے کا ذریعہ تو ایمان اور نیک اعمال ہیں  اور جب وہ ایمان ہی نہیں  لائے تو حکمت والے رب تعالیٰ کے یہ شایانِ شان کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ انہیں  جنت میں  داخل کر دے۔( مدارک ، المعارج ، تحت الآیۃ : ۳۶-۳۹ ، ص۱۲۸۱، خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۹، ۴/۳۱۰، تفسیر کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۹، ۱۰/۶۴۶-۶۴۷، ملتقطاً)