وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:’’ میرے بندے کا میرے ذمۂ کرم پر عہد ہے کہ اگر وہ وقت میں نماز قائم رکھے تو میں اسے عذاب نہ دوں اور بے حساب جنت میں داخل کروں ۔( کنز العمال، کتاب الصلاۃ، قسم الاقوال، الباب الاول، الفصل الثانی، ۴/۱۲۷، الحدیث: ۱۹۰۳۲)
وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭪ(۲۴)لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِﭪ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔اس کے لیے جو مانگے اوراس کے لیے جو محروم رہے۔
{وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ: اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔} یہاں سے دوسرا وصف بیان کیا گیا چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ (ان لوگوں میں حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جن کے مال میں سائل اور محروم کے لئے ایک معلوم اور مُعَیَّن حق ہے ۔ معلوم حق سے مراد زکوٰۃ ہے جس کی مقدار معلوم ہے یا اس سے وہ صدقہ مراد ہے جو آدمی اپنے آپ پر مُعَیَّن کرلے اور اُسے مُعَیَّن اوقات میں ادا کیا کرے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مُستحب صدقات کیلئے اپنی طرف سے وقت مُعَیَّن کرنا شریعت میں جائز اور قابلِ تعریف ہے۔سائل سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے وقت سوال کرے اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود شرم و حیا کی وجہ سے نہیں مانگتا اور اس کی محتاجی ظاہر نہیں ہوتی۔( تفسیر کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۵، ۱۰/۶۴۵، خازن، المعارج، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۵، ۴/۳۱۰، ملتقطاً)
فقیروں ،مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھیں :
اس آیت سے معلوم ہو اکہ فقیروں ،مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھنا چاہئے اور انہیں اپنے مالوں میں سے کچھ نہ کچھ مال دیتے رہنا چاہئے، اسی سلسلے میں یہاں 3اَحادیث ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد